qadiyanio ko aqliyati haq (urdu news , information)

قادیانیوں کو فائدہ ہوگا یا نقصان --
پہلی بات تو یہ جان لیں کہ قادیانی اپنے آپ کو اسلام کا ہی ایک مسلک سمجھتے ہیں ۔
اس صورتحال میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں ۔
1 = ملک بھر کے تمام قادیانیوں کو قتل کردو
2 = قادیانیوں کو اسلام کا لبادہ اوڑھنے سے روکو

حکومت پاکستان نے دوسرا آپشن استعمال کیا ہے ۔ قادیانیوں کو اقلیتوں میں شامل کردیا ہے ۔ اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض اٹھانے شروع کردیے ہیں ۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ باری باری ان کا جواب دوں
پہلا اعتراض :
یہ حکومت کی قادیانیوں کو اسمبلی تک پہنچانے کی سازش ہے
جواب = اگر آپ کا حافظہ کمزور نہیں تو پھر آپ کو سلمان تاثیر ضرور یاد ہوگا ، وہ قادیانی تھا مگر اسلام کا لبادہ اوڑھے گورنر کے عہدے تک جا پہنچا ، وہاں پھر اس نے قادیانیوں کی سپورٹ کے لیے جو چوٹ مسلمانوں کو لگائی ۔ کیا کوئی سرعام قادیانی ایم این اے ایسا کرسکتا تھا ۔؟؟
کیا کبھی اور اقلیتی ایم این اے گورنر کے عہدے تک پہنچا ہے یا اس نے سلمان تاثیر جیسی حرکت کی ہے ؟؟
قادیانی دھوکے سے بڑے عہدے تک پہنچنے کی بجائے اب اقلیت کی صورت بے نقاب رہے کیا یہ اچھا نہیں ہے ۔
دوسرا اعتراض
# حکومت قادیانیوں کو اقلیتی حقوق دے گئی وہ طاقتور ہوجائیں گے ۔
جواب :
یار پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق ہیں کیا سوائے ایک دو اسمبلی کی سیٹ کے ۔ اس معاشرے کی سب سے بدتر نوکری خاکروب ہے لوگ اس کے لیے بھی کسی اقلیتی کو ڈھونڈتے ہیں ۔ رہی بات ان کی عبادت گاہوں کی تو سن لیجئے ۔ آئین پاکستان میں یہ درج ہے کہ کوئی اقلیتی کسی مسلم کے ساتھ اپنے دینی تبلیغی نہیں کرسکتا۔
قادیانی اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکیں گے وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکیں گے ۔ وہ اب دینِ اسلام میں نقب نہیں لگا سکیں گے ۔
تیسرا اعتراض =
حکومت نے قادیانیوں کا مطالبہ مان کر انھیں اقلیت قرار دیا ہے ۔ مطلب قادیانی اپنی چال میں کامیاب ہوئے ہیں

جواب :
حضور والا بھٹو اور ضیاءالحق ہی دو سربراہ تھے جنہوں نے قادیانی ایشو پر بات کی ۔ بعد میں آنے والوں میں کسی کو توفیق ہی نہیں ملی کہ وہ اس فتنے کو اسلامی لبادہ اوڑھنے سے روکیں ۔
بھٹو اور ضیاءالحق دونوں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا چاہتے تھے مگر قادیانی کبھی اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتے اسی وجہ سے وہ مسلسل اسلام میں نقب لگا رہے ہیں ۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا سیدھا سادھے انہیں دھبڑدوس کرنا ہے ۔ جب وہ خود کو مسلمان ہی نہیں کہہ سکیں گے تو پھر چاہے وہ جس مرضی مذہب کو اختیار کریں ہمیں اس سے کیا مسئلہ ؟؟؟
قادیانیوں سے شروعات سے ہی اصل مسئلہ یہی تھا کہ تم لوگ دین اسلام کے خلاف چل پڑے ہو اور وہ بضد تھے کہ ہم مسلمان ہی ہیں ۔ جب انہیں اقلیت کہہ دیا گیا ہے تو پھر تو سارا رولا ہی ختم ۔ سکھ مذہب بھی تو اسلام کے بعد ہی آیا ہے ۔ ہمارا سکھوں سے کیا مسئلہ ہے ؟؟ کوئی نہیں ناں۔۔۔؟؟
تو قادیانیوں سے کیا مسئلہ تھا ؟؟
یہی مسئلہ تھا حضور کہ انہوں اگر نبی پاک ﷺ کو آخری نبی نہیں ماننا تو یہ خود کو مسلمان نا کہیں ۔ یہی تہتر کا آئین ہے کہ کوئی شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانے بغیر سب کچھ ہوسکتا ھے مگر مسلمان نہیں ہوسکتا ۔
سکھ بھی تو یہی کر رہے ہیں ۔ وہ بھی تو بابا گرونانک کو نبی مانتے ہیں ۔ ہم ان کا خون تو نہیں بہا سکتے ہاں البتہ اگر وہ بابا گرونانک کو نبی بھی مانیں اور خود کو مسلمان بھی کہیں پھر تو مسئلہ بنے گا ۔۔۔
یہی قادیانیوں سے روز اول سے بحث تھی کہ اگر تم گھٹیا کاموں میں پرچکے ہو ۔ اسلام میں نقب لگا کر کوئی اور نبی مان چکے ہو تو کم ظرفوں اپنے آپ کو مسلمان مت کہو ۔ تمھارا مزہب کوئی اور ہے ۔ اور پاکستان میں اقلیت کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہی اس حکومت نے کیا ہے کہ بجائے اسکے کہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھے دینِ اسلام کو نقصان پہنچائیں انہیں اس بات سے روکا جائے ۔
موجودہ حکومتی اقدام کا قادیانیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ پتا نہیں کچھ لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آرہا وہ بار بار ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ قادیانی اب اسمبلی پہنچ جائیں گے ۔ اپنے گمراہ مذہب کو مظبوط کرلیں گے ۔
حضور والا پاکستان کی تمام اقلیتیں اسمبلی میں دو دو چار سیٹیں لے کر بیٹھی ہیں کیا کرلیا ہے انہوں نے ۔؟؟
کیا اچھا نہیں ہوا کہ مستقبل میں اگر کوئی رکن اسمبلی اسلامی قوانین کے متضاد کوئی قانون بنائے گا تو اسے دو منٹ میں قادیانیوں کی سیٹوں کا رخ دیکھا دیا جائے گا کہ دفعہ ہوجا وہاں پر ۔
رہی بات قادیانیوں کے مظبوط ہونے کی تو یار کیا اہم اتنے بےشرم ہیں کہ اپنا دین چھوڑ کر ان کے پاس چلے جائیں گے کیا بات کرتے ہو یار۔؟؟

ایک تبصرہ شائع کریں

3 تبصرے