salam ISI (isi operation ki hot story)

ایک آدمی جو اسرائیل سے ٹرینگ لیتا ہے ، پشتو سیکھتا ہے ، سارے طور طریقے سیکھتا ہے ، جب مکمل ٹرینڈ ہو جاتا ہے ، تو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ، پاکستانی پشتون لباس میں ، پشتو پٹھانوں کی طرح بولتا ہے ، لباس انہی کی طرح پہنتا ہے ، نسوار تک رکھتا ہے ، قہوہ پیتا ہے ، کباب کھاتا ہے ، پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے ، حلیئے سے بھی پاکستانی لگتا ہے ، اور یہاں کام کرنا شروع کر دیتا ہے ، خود کش حملے کرواتا ہے ، پہلے موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کرتا ہے ۔
بنوں میں موجود  ایک یہودی ایجنٹ جو عالم بنا ہوا تھا، سے مدد لیتا ہے ، جو وہاں دس سال سے مسجد اور مدرسہ چلا رہا ہوتا ہے ، پولیس پر ، فوج پر ، سیاستدانوں پر ، شہریوں پر حملے کر واتا ہے ،
ملکی ادارے اس جاسوس کو ڈھونڈھتے ہیں ، کہ دھماکہ ہوا تو کیا اس نے کروایا کس نے * جب مدرسے پر آدھی رات کو چھاپا پڑتا ہے ، تو مولوی بھاگ جاتا ہے*
اور لوگوں کو کہتا ہے ، کہ یہ دھماکے آئی ایس آئی کرواتی ہے ، اور فوج پٹھانوں کی دشمن ہے ، لوگ بھی سوچتے ہیں جو بندہ ہمیں قرآن اور حدیث پڑھاتا رہا وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ، اس مولوی کے مسجد کے تہہ خانے سے کیمپوٹرز اور تمام ریکارڈ قبضے میں لیا جاتا ہے ، اسے ڈی کوڈ کیا جاتا ہے ، اور جب اسکے ساتھیوں کی تلاش شروع کی جاتی ہے ، تو پتہ چلتا ہے مولانا صاحب تو کابل سے دوبئی فرار ہو چکے ہیں * اور وہاں سے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے* باقی سارے آپریٹر بھی بھاگ جاتے ہیں ۔
لیکن ایک چھپتا رہتا ہے اور اپنا کام جاری رکھتا ہے ۔ بے پناہ پیسہ اس کے پاس ہوتا ہے * ہر جگہ رشوت لینے والی انتظامیہ کو خوش کرتا رہتا ہے* لیکن ایک جاسوس جو اسے پہچان لیتا ہے ، اور مقامی پولیس سے مدد مانگتا ہے ، لیکن کسی نہ کسی طریقے سے پیسوں کے زور پر انٹیلیجنس فورس کے پہنچنے سے پہلے فرار ہو جاتا ہے ، اور کابل کے راستے امریکا بھاگ جاتا ہے ۔ امریکی ادارے اسکے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں اور * پاکستانی سفیر * کو کہتے ہیں ، جتنی سہولت چاہیئے لے لو ، جتنے ڈالر چاہیۓ لے لو ، کسی طریقے سے یہ بندہ پاکستان میں دوبارہ بھجوا دو ۔
سفیر صاحب اسکو لا محدود ویزہ عطا فرماتے ہیں ، اور پاکستانی وزیر داخلہ کو کہتے ہیں ، اس بندے کو ایرپورٹ رن وے سے ہی گاڑی میں ڈالو اور لاہور میں امریکی سفارت خانے پہنچا دو ۔
 بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے ،  اور پھر چند ہفتے بعد دھماکے شروع ہو جاتے ہیں ، وہی کام کہ کون کرواتا ہے * پتہ چلتا ہے وہی بندہ ہے لیکن اب ----- خان کے نام سے نہیں ریمنڈ ڈیوس کے نام سے کام کر رہا ہے*
نگرانی شروع ہوتی ہے ،، کوئی بھی ملک جس کو ویزہ دے دے ، وہ ایک معاہدہ سمجھا جاتا ہے ، اسکو کینسل آسانی سے نہیں کیا جا سکتا ، اگر اسے نکالتے ہیں تو اس کے بدلے ایک انتہائی اہم  آدمی امریکا سے باہر کر دیا جائے گا ، قید آپ اسے نہیں کر سکتے ، سزا اسے نہیں دے سکتے ، آپ کی سلطنت نے اسے تحفظ کا لکھ کر دیا ہے ۔
پھر کیا حل ہے ، نکال آپ نہیں سکتے ، قید آپ نہیں کر سکتے ، گولی آپ نہیں مار سکتے ، تو اگر وہ عقل مند ہیں تو کیا اور لوگ نہیں ہو سکتے ۔
* پھر اسکے پیچے دو بندے لگا دیئے جاتے ہیں* وہ جونہی ایمبیسی سے نکلتا ہے ،
وہ بندے موٹر سائیکل پر اسکے پیچھے ، وہ بندہ اپنی تمام چالاکیوں اور ہوشیاری کے باوجود مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ، اسکے مالک ریزلٹ مانگتے ہیں ، دھماکے کرواؤ ، وہ ہل نہیں سکتا ، جو اسے ملنے جاتا ہے ، دو بندے اسکے پیچھے لگا دیئے جاتے ہیں ، جس ورکشاب میں بظاہر ایک مستری جو کہ مقامی ہے اور اس کے لیئے کام کرتا ہے
* اسے بارودی مواد گاڑی میں فٹ کرنے کے الزام میں اندر کر دیا جاتا ہے* ہر اسکا مقامی ساتھی غائب کر دیا جاتا ہے یا گرفتار ،
وہ بندہ بلکل پاگل ہو جاتا ہے ۔
اور دو بندوں کو کہا جاتا ہے * بس اسے ڈراؤ ، یہ سمجھے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں* وہ خوف ذدہ ہوکر   اور زچ ہو کر ، انہیں قتل کر دیتا ہے ، گرفتار ہوتا ہے ، اسرائیل اور امریکا کو غشی کے دورے پڑتے ہیں ، امریکی صدر ٹی وی پر اسے ڈپلومیث کہتا ہے ، سارے بیک اور فرنٹ ڈور سارے کھل جاتے ہیں ، خزانوں کے منہ  کھول دیئے جاتے ہیں ۔
مگر اب انکا واسطہ  کسی سیاستدان کیساتھ تو تھا نہیں جنہیں خریداجاتا ۔
جان کیری دوڑتا آتا ہے ، امریکی جنرل جو افغانستان میں ہے ، وہ بھاگا بھاگا آتا ہے ۔
جان کیری کو کہا جاتا ہے ، سی آئی اے چيف کو بھیجو ، سی آئي اے چيف براسطہ افغانستان آدھی رات کو چکلالہ ایرپورٹ پر اترتا ہے ، ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہے ۔
* پہلا مطالبہ * جتنے ایجنٹ ہیں ، انکی لسٹ دو ، وہ بہت  آں أوں  کرتا ہے ، اور آخر کار 3600 لوگوں کی ایک لسٹ دیتا ہے ،
آپ لوگوں کو یاد ہوگا ، زرداری دور میں  چار بیریکیں اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں تعمیر کی گئي تھیں ، پھر امریکا اتنا مجبور کردیا جاتا ہے ، کہ وہ * 3300 لوگ واپس نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے*
انہی دنوں جھنگ باہتر کے قریب ایک پل پر ، ایک غیر ملکی ، کالا چٹا پہاڑ کی فوٹو گرافی کر رہا ہوتا ہے * جسے سنائپر گولی مار دیتا ہے ، ایک کہوٹہ کے پاس قتل کر دیا جاتا ہے ، امریکا مزید دباؤ میں آ جاتا ہے *
امریکا فوجی قیادت ، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاؤں پکڑتا ہے ،
* فوجی قیادت کہتی ہے* ہمیں ایف سولہ کیلئے نائٹ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے والی کٹس چاہیئے ، امریکا بمشکل مان جاتا ہے ، یاد رہے یہی وہ کٹس تھیں جنہوں نے زیر زمیں بنکر وزیرستان میں تباہ کیئے ، اور صفایا کیا ٹی ٹی پی کا ، ایک مسلح گروہ جو امریکا جیسے ملک سے 10 سال میں قابو نہیں آیا ، چند مہینوں ختم کر دیا گيا ،
نقد پیسے بھی سی آئی آے نے دیئے ، جو پھر انہی کے خلاف استعمال ہوئے ۔
نیوی کیلئے میزائیل ، آرمی کیلئۓ ٹارگٹ ڈیٹکٹرز اور لا تعداد اسلحہ جو صرف ایک جاسوس کے عوض ملا ، یہ سودا پیسوں کیلئۓ نہیں ، بلکہ ہزاروں پاکستانیوں کی جان بچاٸی گئيں۔
اس نیٹ ورک کے ٹوٹنے کے بعد لاہور میں کوئی بڑا دھماکہ نہیں ہوا ۔
وطن کے بیٹے وطن کیلئے ہی قربانیاں دیتے ہیں ۔
جن دو بندوں نے قربانیاں دی ، وہی تو اصل ہیروز ہیں ہمارے ۔
انٹیلیجنس میں ایک جان دے کر ہزاروں جانیں بچائی جاتی ہیں ، مگر اسے  سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔      ( منقول )

#مارخوروں_کوسلام✌✊☝❤

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے